Successful experience in making electricity from rust and salty water 25

زنگ اور نمکین پانی سے بجلی بنانے کا کامیاب تجربہ

زنگ اور نمکین پانی سے بجلی بنانے کا کامیاب تجربہ

ویسٹرن یونیورسٹی کے انجینیئروں نے دریافت کیا ہے کہ اگر زنگ آلود پرت پر نمکین پانی بہا جائے تو بجلی کی معمولی مقدار پیدا ہوتی ہے۔ اس سے قبل گرافین پر نمکین پانی سے بجلی بنانے کا تجربہ کیا جاچکا ہے لیکن گرافین کے مقابلے میں زنگ آلود سطح قدرے آسانی سے بنائی جاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ نمک ملا پانی بیٹریوں میں عام طور پر بھرا جاتا ہے۔ اسی بنا پر نمک پانی والے چھوٹے کھلونا لیمپ اور چھوٹے بجلی گھر بھی بنائے جاتے ہیں۔
تاہم یہ نیا نظام ایک مختلف اصول پر کام کرتا ہے۔ اس میں کیمیائی تعامل (ری ایکشن) کی بجائے برقی حرکی (الیکٹروکائنیٹک) اثر کے ذریعے بجلی پیدا ہوتی ہے۔ یعنی جب نمکین پانی زنگ آلود پرت سے گزرتا ہے تو تو اس کی حرکت سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔

بنیادی طور پر نمک میں موجود آئن زنگ پر موجود الیکٹرون کو کشش کرتے ہیں۔ جیسے ہی نمک والا پانی اور اس کے آئن بہتے ہیں وہ زنگ سے الیکٹرون کھینچتا ہے اور بجلی بننے لگتی ہے۔

ہموار انداز میں زنگ آلود سطح بنانے کے لیے ماہرین نے ایک جدید طریقہ فزیکل ویپر ڈیپوزیشن (پی وی ڈی) استعمال کیا۔ اس سے 10 نینومیٹر موٹی زنگ کی ہموار پرت بنی ۔ اس کے بعد مختلف شدت کے نمک کے محلول کو ان پر سے گزارا گیا۔

ابتدائی طور پر کچھ ملی وولٹ کے برابر بجلی پیدا ہوئی جبکہ فی مربع سینٹی میٹر پر چند مائیکروایمپیئرکرنٹ بنا۔ اب اسی کا پیمانہ بڑھایا جائے تو دس مربع میٹر زنگ آلود چادر پر نمکین پانی گزارنے س ےچند کلوواٹ فی گھنٹہ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے نہ صرف سمندر کنارے بجلی گھر بنائے جاسکتے ہیں بلکہ خود انسانی جسم میں موجود نمکیات سے بھی بجلی بنائی جاسکتی ہے جو بدن کے اندر نصب چھوٹے آلات کو بجلی فراہم کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں