امریکا میں تاریخ کی شدید ترین سردی 133

امریکا میں تاریخ کی شدید ترین سردی

امریکا کے وسطی اور مغربی علاقے غیر معمولی طور پر شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں جس کے نتیجے میں نظام زندگی مفلوج ہوگیا ہے۔ سردی کی وجہ ’پولر ورٹیکس‘ کو قرار دیا جارہا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہاں قطب شمالی سے آنے والی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہیں۔

امریکا میں تاریخ کی شدید ترین سردی

ملک کے تیسرے بڑے شہر شکاگو میں درجہ حرارت منفی 30 تک اور شمالی ڈاکوٹا میں منفی 37 تک گر چکا ہے۔ سردی اتنی زیادہ ہے کہ صرف دس منٹ باہر سردی میں کھڑے رہنے سے فراسٹ بائٹ ہوسکتا ہے اور اعضا گل سکتے ہیں۔

انتظامیہ نے وسکونسن، الینوائے اور مشی گن سمیت 5 ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ کئی ائیر پورٹس پر سیکڑوں پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں اور ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے۔

ریاست آیووا میں حکام نے لوگوں کو گہرا سانس نہ لینے اور کم بات چیت کرنے کی ہدایت کی ہے۔ زیادہ تر ہلاکتیں حفاظتی اقدامات کے بغیر سخت ٹھنڈ میں باہر نکلنے سے ہوئیں۔

آئندہ دنوں میں سردی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے جس کے باعث ملک بھر میں کم سے کم دو کروڑ افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ہزاروں بے گھر افراد کے لیے عارضی مراکز قائم کردیے گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں