Pakistani nuclear program and Israeli spy 162

پاکستانی ایٹمی پروگرام اور اسرائیلی جاسوس

پاکستانی ایٹمی پروگرام اور اسرائیلی جاسوس

18دسمبر 2012کو شائع ہونےوالی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیاہے جوناتھن پولارڈ نامی ایک اسرائیلی جاسوس کو یہ ذمے داری دی گئی تھی کہ وہ پاکستان کی ایٹمی پروگرام کے بارے میں معلومات حاصل کرے۔ اس بات کا انکشاف اس ہفتے ریلیز ہونے والی دستاویز میں کیا گیا ہے۔1984 سے 1985 تک پولارڈ نے اسلام آباد کے قریب واقع ایک نیوکلیئر ری پروسیسنگ پلانٹ کی معلومات کے کئی سیٹس اسرائیلی حکام کے حوالے کئے اور یہ آفیشل امریکی ڈاکیومنٹ تھے۔پولارڈ، اگرچہ امریکی شہری ہیں لیکن امریکی بحریہ سے وابستہ رہتے ہوئے انہوں نے اسرائیل کےلئے جاسوسی کی۔ 1987 انہیں اسی بنیاد پر عمر قید کی سزا دی گئی لیکن انہیں 21 نومبر 1987 میں پے رول پر رہا بھی کیا جاسکتا ہے۔ 14 دسمبر، 2012 کو سی آئی اے نے ایک خفیہ دستاویز جاری کی جس کا نام ‘ جوناتھن جے پولارڈ جاسوسی کیس، نقصان کا اندازہ ہے اور یہ رپورٹ 30 اکتوبر 1987 کو تیار کی گئی تھی۔ریکارڈ سے ظاہر ہے کہ 1980 کے عشرے میں امریکی یہ جانتے تھے کہ پاکستان ایٹمی میدان میں خاصی پیش رفت کررہا ہے لیکن افغانستان میں جاری سوویت جنگ میں اسلام آباد کی حمایت کے بدلے پاکستان کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ پھر جولائی 1982 میں ریگن حکومت نے سی آئی اے کے سابق نائب سربراہ جنرل ورنن والٹرز کو جنرل ضیاء الحق کے پاس روانہ کیا تاکہ انہیں ایٹمی پروگرام میں پاکستانی کی خفیہ اور تیز رفتار پیش رفت پر واشنگٹن کی تشویش سے آگاہ کیا جاسکے۔پھر 1986 میں آرمز کنٹرول اور ڈس آرمامنٹ ایجنسی کے ڈائریکٹر، کینتھ ایڈلمان نے بھی وائٹ ہاوس کو خبردار کیا کہ پاکستان ایٹمی پروگرام آگے بڑھا رہا ہے۔ ایک دستاویز سے تو یہ دلچسپ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ریگن انتظامیہ یہاں تک چاہتی تھی کہ پاکستان اپنے خفیہ راز انہیں نہ بتائے کیونکہ اس صورت میں سچ سامنے آجانے پر کانگریس کے سامنے یہ ثابت کرنا مشکل ہوجاتا کہ پاکستان ایٹمی پروگرام پر کام نہیں کررہا ۔ اس سے افغان مزاحمت کو نقصان پہنچنے کا بھی اندیشہ تھا۔ ریکارڈ کے مطابق اس وقت بھی پاکستان اور امریکہ کے درمیان اعتماد اور بھروسے کی کمی تھی اور آج بھی ہے۔1981 کے موسمِ سرما میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے انٹیلی جنس کی بنا پر اندازہ لگایا کہ ‘ اس وقت پاکستان ایک کار آمد بم بنانے کے قابل ہوچکا ہے، تاہم کہوٹہ پلانٹ سے حاصل شدہ افزودہ (اینرچڈ) یورینیم سے 1983سے قبل ایسا کرنا ممکن نہ تھا۔ اس بارے میں وزیرِ خارجہ جارج شلٹز نے صدر ریگن کو خبردار بھی کیا تھا۔ اس کے بعد 1987 میں سینیئر اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ آفیشلز نے لکھا کہ جنرل ضیا ایٹمی پروگرام کے بارے میں اپنی حد سے تجاوز کررہے ہیں۔لیکن صدر جمی کارٹر کے دنوں میں امریکہ نے دوسری اقوام پر زبردست دباو ڈالا کہ وہ پاکستان کو کسی بھی طرح حساس ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم نہیں کریں۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح سے وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو نہ صرف تاخیر سے دوچار کرسکتے ہیں بلکہ اسے پیچھے بھی لے جایا جاسکتا ہے۔ اسی سلسلے میں 1987 امریکہ میں کسٹم حکام نے ایک پاکستانی ارشد پرویز کو گرفتار کیا جو کہوٹہ پلانٹ کے لئے خاص قسم کا فولاد اسمگل کرنے کی کوشش رہے تھے لیکن اس موقع پر بھی ریگن انتظامیہ نے کہا کہ پاکستان ( اب بھی) ایٹمی ہتھیار نہیں رکھتا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں