Al-Azizi and Philosophical references against Nawaz Sharif 90

نوازشریف کیخلاف العزیزیہ اورفلیگ شپ ریفرنسز

نوازشریف کیخلاف العزیزیہ اورفلیگ شپ ریفرنسز

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کی سماعت کی، اس دوران فریقین کی جانب سے قانونی نکات پر حتمی دلائل دیے گئے۔

العزیزیہ ریفرنس میں استغاثہ کے 22 گواہان نے بیانات قلمبند کروائے اور فلیگ شپ ریفرنس میں استغاثہ کے 16 گواہان نے بیانات قلمبند کروائے جب کہ نواز شریف نے دونوں ریفرنسز میں اپنا دفاع پیش نہیں کیا، دونوں ریفرنس کا فیصلہ 24 دسمبر کو سنایا جائے گا۔

نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے احتساب عدالت میں نئی دستاویزات پیش کردیں، نئی دستاویزات سابق وزیراعظم کے صاحبزادے حسن نواز کی برطانیہ میں کمپنیوں سےمتعلق ہیں، نئی دستاویزات لینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ سے تصدیق شدہ ہیں۔

نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے مزید دستاویزات جمع کروانے کے لیے مزید مہلت مانگی گئی تاہم عدالت نے ان کی یہ درخواست مسترد کردی۔ نوازشریف نے موقف اختیار کیا کہ کاروبار میرے بچوں کے ہیں جو بالغ اور خود مختار ہیں، میرا ان کاروبار سے کوئی تعلق نہیں۔

نیب نے موقف اختیار کیا کہ کاروبار کے حقیقی مالک نواز شریف ہیں، بچے بے نامی دار ہیں، وائٹ کالر کرائم میں جائیداد اور کاروبار بے نامی دار کے نام پر شروع کیا جاتا ہے، نواز شریف کو بچوں کی کمپنیوں سے بھاری رقوم ٹرانسفر ہوتی رہیں، نوازشریف کے صاحبزادے حسن نواز اور حسین نواز شریک ملزمان ہیں جب کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات سے متعلق نیب کے سیکشن نائن اے فائیو کے تحت سزا دی جائے۔

نواز شریف کا عدالت میں بیان

فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد نواز شریف روسٹرم پرآئے اورجج کو مخاطب کر کے بیان دیا، انہوں نے کہا کہ رجسٹرار آفس سے حاصل کردہ ریکارڈ کے مطابق اس عدالت میں 78 مرتبہ پیش ہوا، اس سے قبل احتساب عدالت نمبرایک میں بھی 87 پیشیاں ہوئیں، اس طرح کل 165 مرتبہ عدالت آیا، میراضمیرمطمئن ہے کہ کبھی کرپشن کے قریب بھی نہیں گیا، کِک بیکس کی وصولی یا اختیارات کے غلط استعمال کا کبھی کوئی الزام نہیں لگا، یہ مفروضوں، قیاس آرائیوں اوراندازوں پر مبنی کارروائیاں ہیں، اگراس طرح عدالتی کارروائی ہونی ہے تو پوری قوم اوراللہ بھی دیکھ رہا ہے، مجھے پورایقین ہے کہ آپ انصاف والا فیصلہ کریں گے۔

کیس کا پس منظر
سابق وزیراعظم نوازشریف کو سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں تاحیات نااہل قرار دیا تھا جس کے بعد انہیں وزارت عظمیٰ سے الگ ہونا پڑا اور عدالت کے ہی حکم پر ان کے خلاف نیب تحقیقات کا آغاز ہوا۔ قومی احتساب بیورو نے نوازشریف کے خلاف العزیزیہ، فلیگ شپ اور ایون فیلڈ ریفرنس بنایا۔

بعد ازاں احتساب عدالت نے نوازشریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں 11 سال قید وجرمانے کی سزا سنائی جب کہ مریم نواز کو 7 اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو بھی ایک سال کی سزا سنائی گئی اور اب نوازشریف کے خلاف آخری 2 ریفرنسز پر فیصلہ آج محفوظ ہونے کا امکان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں