Helpers, childbirth , maternity sofa 111

بچے کی ولادت میں مددگار ’زچگی صوفہ‘

کڑا ہالینڈ میں واقع کیمپن ہیگ ایپی لیپسی سینٹر اور آئنڈہوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ اس ڈجیٹل کڑے کو نائٹ واچ آرم بینڈ کا نام دیا گیا ہے۔ اسے شدید مرگی کے ایسے مریضوں کو لگایا جائے گا جن پر کوئی تھراپی اور علاج کارگر نہیں ہوتا اور وہ کسی طرح ذہنی کمزوری کے شکار بھی ہوتے۔

اس کڑے کو بازو کے اوپر باندھا جاتا ہے جس میں کئی طرح کے سینسر جسمانی اکڑن، مرگی کے جھٹکوں اور حرکات کو نوٹ کرتے رہتے ہیں۔ ایک آپٹیکل سینسر بھی دل کی کیفیت مثلاً دھڑکن، رفتار اور دیگر باتوں کو نوٹ کرتا رہتا ہے۔

اگر مریض کو نیند کے دوران مرگی کا ایسا شدید دورہ پڑے جس سے دل کی رفتار بے ترتیب ہوجائے تو یہ فوری طور پر مریض کی تیمارداری کرنے والے افراد کو اس کی خبر ایک الارم کی صورت میں دیتا ہے تاکہ وہ فوری طور پر مریض کے پاس پہنچ سکیں۔

ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اس طرح آرم بینڈ کے استعمال سے دوتہائی افراد کی جانیں بچائی جاسکیں گی۔ انقلابی آلے کو 28 ایسے مریضوں پر 65 راتوں تک آزمایا گیا جو دماغی اور ذہنی معذوری والی مرگی کے شکار تھے۔ نیند کے دوران ویڈیو کیمروں سے بھی ان کی حرکات و سکنات کا جائزہ لیا گیا۔ اس دوران 85 فیصد سنجیدہ اور جان لیوا دوروں کو کامیابی سے نوٹ کیا گیا۔

اکثر گھروں میں بستر کے سرہانے ایسے سینسر لگائے جاتے ہیں لیکن وہ اتنے مؤثر ثابت نہیں ہوپاتے اور ان میں کامیابی کی شرح 21 فیصد تک نوٹ کی گئی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں